|
ديکھيں فراز صاحب ميرے پاس اتنا وقت نہيں کہ ميں آپ کو تفصيل
بتائوں بس آپ مجھ پر اتني مہرباني کريں کہ في الحال کسي کو ميرے بارے ميں علم نہ ہو
ميں يہاں سے بہت دور نکل جانا چاہتي ہوں، فراز کي سمجھ ميں کچھ نہيں آرہا تھا کہ
کيا کہہ رہي ہے، پھر اسي لمحہ اس نے ايک فيصلہ کيا اور ساحرہ کو ايک منٹ روکنے کا
کہتا ہوا الماري کي طرف بڑھا، جب مڑا تو اس کے ہاتھ ميں ايک ريورالر اور بريف کيس
تھا، ريوالور ديکھ کر وہ گھبراکر دو قدم پيچھے ہٹ گئي ليکن فراز ساحرہ کي اس حرکت
سے بے خبر اس سے مخاطب ہوا کہ آپ اکيلي نہيں جائيں گي اگر يہ سب کچھ ميري وجہ سے
ہوا ہے تو ميں اپنے اس ناکردہ جرم کا ازالہ بھي خود ہي کروں گا، ليکن آپ؟ فراز کے
چہرے پر سنجيدگي ديکھ کر وہ مزيد کچھ بھي نہ کہہ سکي اور پھر اس کے پاس بحث و
تکرار کا وقت بھي نہ تھا، وہ چپ چاپ فراز کے پيچھے ہولي شايد اس اندھيري رات ميں وہ
جو بھي کس سہارے کي متمني تھي وہ دونوں گلي پار کرکے سڑک پر آگئے ساحرہ چادر سے
چہرہ چھپائے اس کے پيچھے پيچھے چل رہي تھي، آج کے بعد تو دنيا اسے مرنے کے بعد بھي
نہيں بخشے گي ٹرين نے وسل ديا تو وہ چونک گئي اس کے بالکل سامنے والي سيٹ پر فراز
بيٹھا کھڑکي سے باہر ديکھ رہا تھا، اور وہ خود کشي کے منصوبے بنا رہي تھي، اتنا بڑا
قدم اٹھانے کے بعد اب پچھتاوا مسلسل اس کا پيچھا کر رہا تھا انہي سوچوں ميں گھڑي نہ
جانے کب اس کي آنکھ لگ گئي جب گاري ايک گائوں کے چھوٹے سے اسٹيشن پر ايک جھٹکے سے
رکي تو اس کي آنکھ کھل گئي، ديکھا فراز بريف کيس پکڑے کھڑا تھا وہ بھي اس کي
تائيد ميں گاڑي سے نيچے اتري، يہ کوئي گائوں تھا ارد گرد کھيت لہلہارہے تھے، انہوں
نے کہ ايک تانگہ کرايہ پر ليا وہ ابھي تک فراز کے بارے ميں کچھ بھي سمجھ نہ پارہي
تھي، فراز سے دو قدم پيچھے چلتي ہوئي وہ حويلي ميں داخل ہوگئي حويلي کي خوبصورتي
اور سجاوٹ ديکھ کر ايک لمحہ کو جيسے اس پر سحر طاري ہوگيا ہو، ملازمين جھک جھک کر
انہيں سلام کرہے تھے ان سب کي خوشي ديدني تھي حويلي ميں اک ہنگامہ برپا سا ہوگيا ہر
طرف سے چھوٹے سرکار آگئے کي صدائيں بھر رہي تھيں، وہ مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ايک
بڑے ہال نما خوبصورت کمرے ميں داخل ہوئے تو ايک شفيق اور بزرگ خاتون نے آگے بڑھ کر
فراز کا ماتھا چوما اور گلے لگايا ان کي آنکھوں ميں آنسو چمک رہے تھے۔ |