پچھتاوا؟ کيا پچھتاوا؟ عاليہ نے حيرت کا اظہار کيا، ردا نے گہري
سانس لي ميں لياقت کو وہ سب کچھ نہ دے سکي جس کے وہ صيح حقدار تھے اور جس کي خاطر
ميں نے سب کچھ شايد اس قابل ہي نہ تھا اس کے لہجے کي حقارت کو واضع طور پر عاليہ نہ
محسوس کيا کہ اس نے بات جاري رکھتے ہوئے کہا، يہ جانتے ہوئے بھي کہ ميں لياقت کو
پسند نہيں کرتي انہوں نے مجھے کبھي کسي قسم کا طعنہ نہيں ديا تھا مجھ پر تو احسن کے
عشق کا بھوت سوار تھا اور پھر جبماجد اور واجد کي پيدائش کے بعد ميں نے اپنے آپ کو
لياقت کي بيوي کے سانچے ميں ڈھالنے کو کوشش کي تو ان کي زندگي نے اتني مہلت نہ دي
کہ ميں ان کے احسانوں کا بدلہ چکا سکتي، تمہاري احسن سے کب ملاقات ہوئي؟
عاليہ کا تجسس بڑھتا جارہا تھا، احسن نے ميري لياقت سے شادي سے پہلے پرپوز
کيا تھا، امي نے انکار کرديا، دراصل ہم مالي لحاظ سے ان سے بہت کم تھے، ميں نے بہت
احتجاج کيا اور امي کو قائل کرنے کي پوري کوشش کي ليکن انہي دنوں لياقت پر پرپوزل
آیا تو امي نے فورا قبول کرليا اور اس طرح ميں لياقت کي بيوي بن گئي، شادي کے بعد
جب ميں سمجھوتہ کرنے کي کوشش کرتي تو احسن کا فون مجھے پھر سے بغاوت کرنے پر آمادہ
کرديتا، اس نے شادي کے بعد ايک دن بھي مکمل طور پر مجھے لياقت کي بيوي ہو کر نہيں
رہنے ديا، ميرا ذہن ہر وقت بٹا رہتا تھا، ميں نہ چاہتے ہوئے بھي اس کي باتوں کے
حصار ميں آجاتي تھي، ردانے دکھ بھري آواز ميں آہ بھري اور پھر بولي، جڑواں بچوں کي
پيدائش اور انکي پرورش نے مجھے اوربھي چڑ چڑا کرديا تھا ميں بات بات پر لياقت پر
برس پڑتي تب بھي انہوں نے کبھي برا نہيں مانا، بلکہ ميرے ساتھ مل کر بچوں کو
سنبھالتے رہے ، وہ زندہ ہوتے تو شايد حالات ہميشہ ايسے نہ رہتے، آخر کو ميں بيوي تو
انھيں کي تھي نا؟ اس نے بےبسي سے عاليہ کي طرف ديکھا، تو اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ
رکھا کر ہلکا سا دبايا ليکن، لياقت بھائي فوت کيسے ہوئے۔ |