کي تھي ميں نے تم سے محبت۔ ليکن تم نے۔۔۔۔تم نے ميري محبت کے جواب ميں مجھے کيا
ديا، اپنے شوہر کے بچے؟ اس کے لہجے ميں اس قدر کڑواہٹ تھي کہ ميں ڈگمگا سي گئي،
کرسي کا سہارا لے کر بيٹھتے ہوئے ميں نے پھر سوال کيا پھر تم نے مجھ سے شادي کيوں
کي؟ ميں تمہاري امي سے تمہارا رشتہ مانگا تھا، مگر انہوں نے لياقت کو مجھ پر
ترجيح دي، ليکن ميں ہار ماننے والوں ميں سے نہيں ہوں، اسي عورت نےپھر مجھے ہنسي
خوشي قبول کرليا بلکہہ اب تم اور تمہاري ماں اب ميرے محتاج ہيں وہ ايک فاتح کي طرح
عالم سرخوشي ميں بول رہا تھا، تمہارا دوسرا چہرہ اس قدر گھنائونا ہوسکتا ہے، ميں
کبھي سوچ بھي نہيں سکتي تھي۔۔۔۔تم مجھے اس وقت طلاق دو تم، کيا سمجھتے ہو کہ تمہارے
بغیر ميں اپنے بچوں کو نہيں پال سکتي، يہ تمہاري غلط فہمي ہے مسٹر احسن۔ طلاق دو
مجھے، رہي بات بچوں کي پرورش کي تو وہ ميں ابھي کر رہي ہو ملازمت کرکے۔
اور ۔۔۔۔۔يہ بھي تو سچ ہے کہ تم ہي ميري پہلي محبت ہو، اس نے نظريں
چراکر کہا، او شت اپ، بند کرو يہ محبت کا ڈھونگ تم جيسے اس لطيف جذبے کو نہيں سمجھ
سکتے تم دوسروں کے جذبات کے قاتل ہو تم ہو تم نے لياقت کے ساتھ بھي ميري زندگي کو
اجيرن کئے رکھا اور اب؟ وہ سانس لينے کو رکي اب تم نے جہنم بناديا ہے، ميري زندگي
کو وہ کچھ کہے بنا گھر سے نکل گيا اور ساري رات واپس نہيں آيا، ميں روتي رہي مجھے
اس گھر ميں غير محفوظ ہونے کا احساس ہورہا تھا وہ رات جيسے تيسے کرکے سر کي اور صبح
ہوتے ہي بچوں کو لے امي کے گھر آگئي، وہ کچھ دير کو رکي، عاليہ کو اس کي آنکھيں ہر
قسم کے جذبابت و احساس سے خالي لگيں، جيسے زندگي يہي پر ختم ہوگئي ہو ليکن اس کي
زندگي کي کہاني کا اختتام ابھي نہيں ہوا تھا، اس نے پھر بتانا شروع کيا، احسن اکثر
يہاں بھي آتا اور دھمکياں ديتا، ايک بار اس نے دھمکي دي کہ اگر ميں نے اب طلاق کا
مطالبہ کيا تو ميرے چہرے پر تيزاب پھينک دے گا ميں بہت خوفزدہ ہوگئي باہر نکلنا
ميري مجبوري تھي بچوں کي خاطر نوکري نہ کرتي تو گزارہ کيسے ہوتا پھر ميں نے کچھ دن
کي چھٹياں لے ليں اور گھر سے باہر بالکل نہيں نکلي، ليکن کب تک؟ اب تو مجھ پر
دو بچوں کے بجائے تين بچوں کي ذمہ داري تھي، اور طلاق کا مسئلہ بھي حل کراويا اور
اسي طرح ميں ايک دفعہ پھر اکيلي ہوگئي، ساري ذمہ داريوں کا بوجھ اٹھانے کيلئے، ميري
زندگي ميں دو مرد آئے ليکن کسي نے بھي ميري وفانہ کي ايک کو تو زندگي نے مہلت نہ دي
اور دوسرے ويسے ہي بے وفا نکلا تمہارا کيا ارادہ ہے عاليہ نے پوچھا۔
ميں تو حيران ہوں کہ لوگ اب بھي مجھے تيسري شادي کا مشورہ ديتے ہيں، ليکن اب سب مجھ
سے نہيں ہوسکے گا، يہ ٹھيک ہے خدا نے مرد کو عورت تک کے تحفظ کيلئے پيدا کيا ليکن
جہاں خود مرد ہي لٹيرے بن جائيں، وہاں کون محافظ ہوگا عورت؟ پھر تو ايک ہي حل
کہ عورت اپني خود حفاظت کے تمام گر سيکھ جائے، ليکن ردا تمام مرد بھي ايک جيسے نہيں
ہوتے لياقت بھائي بھي تو تھے، ردا نے اس نظريہ کي ترديد کي، ہاں اور مجھے ساري
زندگي صرف ايک بات کا پچھتاوا رہے گا کہ ميں لياقت کو وہ خوشياں نہ دے سکيں جب کے
وہ مستحق تھے۔ |