Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
<


  اردوادب | آپ کے مضامين | صائمہ ممتاز
وفا
واصف کے والد فوت ہوچکے تھے، وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائي تھا اور سب سے چھوٹا تھا، بيوہ بہن کا چار جوان بيٹيوں کے ساتھ تنہا اکيلا رہنا مشکل ہوگيا تو ماموں نے اپنے ساتھ والا گھر بہن کو دے ديا کہ ان دونوں کے گھروں کے درميان صرف ايک ديوار تھي ثريا اپني باجي سے ملنے آئي ہوئي تھي واصف کو خاموش ليٹا ديکھ کر اسکي چھوٹی بہن سرگوش کي وہ اچھل پڑا تمہيں کيا پتا چلا؟
ميں نے خود ديکھا ہے وہ اترا کر بولي ايک وہ ہي تو اس راز سے آشنا تھي، وہ ايک ساتھ ہي بہت سي سيڑھياں پھيلانگتا ہوا چھت پر دوڑا، اس کي باجي شايد اسے اپنا چھوٹا سا قصبہ دکھانے کيلئے اوپر لائيں تھيں، ان دنوں کا رخ دوسري جانب تھا اور وہ اس کا چہرہ ديکھنے کيلے بے تاب تھا جب اسے کچھ بتاتے ہوئے مماني کي نظر واصف پر پڑي تو انہوں نے سواليہ نظروں سے ديکھا جس کي تائيد ميں ثريا جنہوں نے اسے کافي دن سے ڈسٹرپ کئے رکھا تھا مماني کو اس طرح اپني طرف ديکھتے ہو ئے کھسيانا بن گيا اور لا پرواہي کا تاثر ديتے ہوئے چھت کي دوسير جانب جا کر کھرا ہوگيا، ثريا يہ ميري نند کا بيٹا واصف ہے ، پائلٹ بننے کا شوق رکھتا ہے ہوائوں ميں اڑنے کا شوق ہے، باجي واصف کے بارے ميں معلومات فراہم کيں ہوگا، صرف ہے اس کا قصبہ کا بيچارہ غريب۔۔۔۔۔ثريا نے بے زاري سے کہا۔
وہ اپني بہن کے رشتے سے نہ خوشي تھي، اسے اس کے سسرال والے نہ پسند تھے بلکہ انکا يہ قصبہ ناپسند تھا اس کو تو بس بڑے بڑے شہر پسند تھے وہ خود کسي لينڈ لاڈ کي بيٹی نہ تھي، رہتي تو وہ لاہور جيسے بڑے شہر ميں ہي تھيليکن ايک غريب سائيکل کے ٹائروں کو پنکچر لگانے والے کي بيٹی تھي، اس کا باپ اپنے وقتوں کا پڑھا لکھا شخص تھا ليکن نوکري نہ ملنے پر محنت کرنے ميں کوئي عار نہيں سمجھتا تھا، کہ سارے بچے باپ کي طرح صابر تھے ليکن ثريا جو مل گيا اسي پر قناعت کرنے والوں ميں سے نہ تھي، ٹي وي، وي سي آر، ٹيپ ريکارڈ يہ سب اس کے لئے کسي اور ہي دنيا کي چيزيں تھيں، جنھيں پانے کي جستجو ہر وقت اس کے دل ميں رہتي ليکن ان کے گھر تو ايک ريڈيو تک نہ تھا، اس نے آس پڑوس کے بچوں کو ٹيوشن پڑھانا شروع کرديا، کہ پيسے جمع کرکے ٹيپ ريکارڈ لے سکے اور پھر سارا دن اس پر گانے سن سکے۔
واصف ميں تبديلي سب ہي نہ نوٹ کي تھي ماموں کے گھر کے چکر زيادہ لگے اور مماني سےتو خاص لگائو پيدا ہوگيا تھا، گھڑي بيچ کر ايک ٹیپ ريکارڈ خريد ليا، اپني اس حرکت پر وہ خود بھي حيران تھا اور پھر اس کے بعد وہ اپني پڑھائي ميں اور بھي زيادہ جٹ گيا تاکہ کل جب ثريا اس کے گھر دلہن بن کر آئے تو وہ دنيا کي ہر چيز اس کے قدموں ميں ڈال سکے۔۔۔۔۔۔
اس روزہ وہ چھت پر بيٹھا انہماک سے پڑھ رہا تھا جب اسے لگا مماني کي چھت پر کوئي ہے، دل نے فورا ثريا کے ديدار کي خواہش کي اميدي اور نا اميدي کے عالم اس نے ادھر جھانکا تو ثريا انھيں کي چھت پر کچھ ديھکنے کي کوشش کر رہي تھي واصف کو ديکھ کر اس نے دانستہ منہ پھر ليا وہ اس کي آنکھوں ميں نہيں  ديکھنا چاہتي تھي۔
اگلا صفحہ (2) پچھلا صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 8 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu