آپ مجھے اس طرح کيوں ديکھ رہے ہيں؟ اس کے سوال کے جواب پر وہ چونکا تو اسے اپنا وہم
سمجھ رہا تھا، پہلے آپ بتائيں کہ ادھر کسے تلاش کر رہي تھيں؟ اس نے لفظ کسے
پر زور ديتے ہوئے شرارت سے پوچھا، مطلب کيا ہے، آپ اسطرح سے پوچھنے کا؟ ثريا نے کچھ
تيز لہجے ميں کہا وہي جو آپ کے پوچھنے کا مطلب تھا، اس نے بڑے اطمينان سے جواب ديا
تو وہ سٹپٹا گئي، ديکھيں مسٹر، اس نے وارنگ دينے کے انداز ميں اسے مخاطب کرتے ہوئے
کہا براہ راست اس کي آنکھوں ميں ديکھا تو اسکو لگا جيسے کسي گہرے سمندر ميں ڈوبتي
چلي جارہي ہوں، يا خدا کيا ہے اس شخص کي آنکھوں ميں جو مجھے اس قدر بے بس
کرکے رکھ ديتا ہے، وہ کچھ کہے بغير تيزي سيڑھياں اتر گئي اور وہ مسکرا کر رہ گيا،
وہ خوش تھا کہ آج خدا نے بن مانگے ہي اس کا ديدار بلکہ ملاقات کروادي تھي۔۔۔۔۔۔
چھوٹي نے ماں کو بھائي کي پسند کے بارے ميں بتا ديا تھا اور ماں کو اتني سگھڑ
بھابھي کي بہن کو بہو بنانے ميں کوئي اعتراض نہيں تھا لہذا انہوں نے رشتہ
مانگنے کيلئے رخت سفر باندھا ان کے خيال ميں منگني ابھي ہو جائے شادي
پھر ڈھائي سال کے بعد آرام سے ہوتي رہے گي، جب تک واصف بھي اپنے پائوں پر
کھڑا ہو جائے گا، ويسے بھي اکلوتے بيٹے کے سر پر سہرا ديکھنے کيلئے وہ بے تاب تھيں،
ثريا کے والدين نے اپني بڑي بيٹی کي نند کے حوالے سے ان کي خوب آئو بگھت کي ليکن ان
کا مدعا سنا تو رنجيدہ سے ہوگئے کيونکہ وہ اپني بيٹي کے فيصلے سے خوب آگاہ تھے اس
کي تو پہلي شرط ہي دولت تھي۔ |