ورنہ کبھي نہ شادي کرنےکا اعلان تھا اور پھر ويسے بھي وہ ابھي پڑھنا چاہتي ہے اور
يہ ہي بہانہ بنا کر کے انہوں نے في الحال اس مسئلے کو دبا ديا، واصف کو ماموں کي
زباني انکار کي وجہ معلوہوئي تو تو اس نے پاٹ ٹائم جوب شروع کردي وہ اس لئے کہ وہ
اس کيلئے کچھ بھي کرسکتا تھا۔۔۔۔اور پھر ايک دن ثريا کي شادي کي خبر اس پر بجلي بن
کر گري وہ تو اسے پانے کي آس ميں زندہ تھا، اس کي ياد اس کي سانسوں کا تانہ بانہ
جڑا ہوا تھا، اس کے خيال سے اس کے دل ميں دھڑکن تھي، اس نے اس کي چاہت ميں خريدے
ہوئے ٹيپ ريکارڈ کے اتنے تکڑے کئي کے شايد جتنے اس کے اپنے دل کے ہوئے ہوں وہ تہئ
دامن ہو کر رہ گيا تھا اس کے ہاتھ خالي اور دل وہران تھا اور پھر انھيں ہاتھوں نے
ہيروئن کا سہارا ليا اب وہ اسکي دنيا سے بہت دور جا چکا تھا، جہاں اسکي ياديں اسے
بے چيني کرتي تھي، جن آنکھوں ميں اس کي ياد کے دئيے جلتے تھے، ان پر اب کيس خوشي يا
غم کا اثر نہيں ہوتا، ثريا کے خاوند کي پہلي بيوي مرچکي تھي، اسے اپنے خاوند کے گھر
پر وہ چيز ملي جس کي اس نے تمنا کي تھي ليکن ايک چيز جس سے وہ محروم رہي تھي، وہ
تھي محبت سچي محبت اس کا خاوند شکي مزاج تھا اور کيونکہ وہ عمر ميں ثريا سے کافي
بڑا تھا اس لئے اپني کم عمر اور خوبصورت بيوي پر ہميشہ ہي اس کو شک رہتا وہ کہيں
بھي آزادي سے آجا نہيں سکتي تھي گويا اس خوبصورت چڑيا کو سونے کے پنجرے ميں قيد
کرليا تھا۔۔۔۔۔آج دو سال کے بعد اپنے خاوند کي منت سماجت کرکے وہ اپني بہن سے ملنے
آئي تھي اور دل تھا جو نہ جانے کيوں واصف کو ايک نظر ديکھنے کو مچلنے لگا شايد اسے
خبر ہوگئي تھي، کہ يہ اسي کا شہر ہے ليکن اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب اسکے
قدم چھت کي طرف بڑھے تو اسے يہ مانا ہي پڑا کہ اپني آنکھوں پر خود غرضي کي
پٹي باندھ کر اسنے کسي کو بري طرح تباہ کرديا تھا، چھت پر بيٹھے ہوئے شخص کو وہ
پہچان نہ سکي، جب اس نے سر اٹھا کر اس کي طرف ديکھا تو اس کي آنکھيں اس کي پہچان
کرواگئيں، واصف بے اختيار اس کے منہ سے نکلا آنسو حلق ميں اٹک گئے، وج اجنبيوں کي
طرح اسے ديکھ رہا تھا، ثريا سے مزيد برداشت نہ ہوسکا اور وہاں سے ہٹ گئي شاق کي
حالت ميں باجي کے پاس آئي تو انہوں نے اس کي حالت کو بھانپتے ہوئے واصف کے بارے ميں
سب کچھ بتايا، اس کے يہاں آنے سے محلے ميں چہ مگوئياں ہونے لگيں تھيں، اس چھوٹے سے
قصبے ميں اس کا اور واصف کا قصہ ليل مجنوں کي طرح زبان عام تھا وہ زيادہ دن وہاں نہ
رکي، ليکن يہ اسکي غلط فہمي تھي کہ اس دور جار کر وہ چين سے رہ سکے گي اسکا سارا
سکون وہيں کہيں واصف کے شہر ميں کھوگيا تھا، وہ لمحہ بالمحہ اندر سے سلگ رہي تھي
جسکي وجہ سے خاوند کے مزيد طنز و طعنوں کا شکار ہورہي تھي۔۔۔۔۔۔۔
وہ شوہر کے ہمراہ اپنے بيٹے کي منت پوري کرکے مزار کي سيڑھيان اتر رہي تھي کے ساتھ
ساتھ بنے ہوئے جھڑے پر بيٹھے ہوئے ايک ملنگ بابا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، يہ اس
کي خوشبو ہے، ثريا نے اس کي بات کو نظر انداز کرتے ہوئے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑاتے
ہوئے اس کي طرف ديکھا تو جيسے سکتے ميں آگئي واصف؟ وہ اپنے حليئے سے کسي بھي طرح
واصف نہيں لگ رہا تھا بڑھي ہوئي داڑھي، پھٹے پرانے کپڑے، اس قدر کمزور اور اپنے آپ
سے بے نياز، ليکن يہ وہ ہي آنکھيں تھيں وہ ہر حال ميں پہچان سکتي تھي، اس کے ذہن
ميں آندھياں سي چلنے لگيں، اسکا خاوند جو تين سيڑھياناتر چکا تھا يہ منظر ديکھ کر
آگ بگو لہ ہوگيا اس نے واصف کو دھکا ديا اور ثريا کو بازو سے پکڑ کر گھسيٹتا ہوا
گاڑي ميں لے گيا ثريا کي آنکھيں اس کے چہرے پر جمي ہوئي تھيں اور وہ دور دور تک اسے
ديکھتي رہي۔۔۔۔اور پھر اس کي آنکھوں کے آگے اندھيرا چھا گيا اور اسے اپنے اردگرد کي
ہوش نہ رہي۔۔۔۔۔اور پھر پورا ہفتہ وہ صدمے کي حالت ميں اسپتال ميں پڑي رہي کبھي
کبھي وہ سب کچھ ہوجاتا ہے جس کے بارے ميں انسان نے کبھي سوچا بھي نہيں ہوتا جس بات
کو معمولي سمجھاجاتا ہے وہ کبھي کبھي ساري عمر کا پچھتاوا بن کر رہ جاتي ہے، چند
ماہ زندہ رہ کر واصف اس کي دنيا کو ہميشہ کيلئے چھوڑ کر چلا گيا، وہ واصف کي موت کي
ذمہ دار خود کو قرار ديتي ہے دنيا کي کوئي عدالت اسے اس قتل کي سز نہيں دے سکتي
ليکن اسکے ضمير کيي عدالت ہر روز اسے سزا ديتي سناتي ہے، جو ہر سزا پر حاوي ہے،
واصف کي نظريں اسے کہيں بھي چين نہ لينے ديتيں اور جب ان سے چھپتے چھپتے وہ تھک
جاتي ہے تو چلانا شروع کرديتي ہے ڈاکٹرزکےخيال ميں وہ کسي گہرے صدمے کي حالت ميں
ہے۔
واصف کي ماں کي حالت وہ ہوگئي جو ايک جوان بيٹے کي موت پر ہوسکتي ہےوہ
ابھي تک ہر چيز کو ديکھ کر کہتي ہے ميرا بيٹا اسکو اڑا کر لے جارہا ہے اور وہ بہت
جلد آئے گا اور مجھے اس ميں بيٹھا کر لے جائے گا۔ |