شرم آتي ہے مگر۔۔۔۔
کے صحرا ميں ترقي کے کئي نشيب و فراز سے ميں گزري ہوئي ہوں ليکن ماضي کي سمت سے
يادوں کي چل رہي آندھي نے آج مجھے جنجھوڑ کر رکھ ديا ہے،ميں علم و ادب کي وہ خادم
ہوں جس نے ان دوسور مائوں کو کئي ايام بخشے ہيں، ميں خوبصورتي کا وہ گہوارہ
ہوں جسکي ہندو پاک کے عظيم شاعروں نےستش کي ہے، شرفا سے ليکر غربا تک ہر کوئي ميرے
عشق کا بيمار رہا ہے، عام آدمي کے جنون کي انتہا يہ ہے کہ وہ مجھ سے آشان ہو يا نہ
ہو ليکن مير زلفون کي زنجير کا قيدي ضرور بنا ہے، ديني امور ہوں يا پھر دنياوي
مسائل ميں نے ہر ممکن کوششوں سے ان چيزوں کو آپ کے مقابل پيش کيا ہے، ليکن
افسوس آج ميں خود نيا کي بے رخي کا شکار ہوں، آج ميري حالت اس مور کي طرح ہے جسے
اپني خوبصورتي پر تو بڑا ناز ہے ، ليکن جب وہ اپنے پيروں يعني اپنے خيرا خواہوں کي
جانب ديکھتا ہے تو اسکي ساري خوشي اور اکڑ کافور ہوجاتي ہے، مجھے يہ نہيں پتہ کہ کب
تک مجھے اس بے رخي کا شکار ہونا پڑے گا، کيا آپ جانتے ہيں ميں کون ہوں؟ميں پچھے ايک
منٹ سے آپ کے ساتھ ہوں آپ کي ہي نظروں کے سامنے ، کيا کہا آپ نے؟ آپ ميرا نام جاننا
چاہتے ہيں؟ وائے قسمت، اس سے بڑي حالات کي ستم ظريفي کيا ہوگي کہ ميرے ساتھ اتنا
وقت گزارنے کے بعد اور ميراے خدو خال کا بغور جائزہ لينے کے باوجود بھي آپ ميرا نام
پوچھ رہے ہيں۔۔۔۔ |