وہ زندگي کے صرف بارہ سال ديکھ پائي۔
ذليل نامردوں اور وحشيوں نے اس نھني کي بے عزتي اور بے حرمتي کي، اور اسکي جان لي۔
ميري لکھائي ميں رواني تھي، ميرے آنسو بھي اسي رواني سے بہہ رہے تھے جب ميں
نے اپني کہاني کا اختتام لکھا تو چار بج رہے تھے، ميں نے ليپ ٹاپ بند کيا اور سيڑھي
چڑھ کر اوپر پہنچا ، ماں کھلے برآمدے ميں آرام دے کرسي پر ہلکي نيند ميں سو رہي
تھي، اس کي آنکھ کھل گئي ، اس نے کہا، وہ ساري رات يہاں بيٹھي تمہيں ديکھتي رہي،
ميں 15 منٹ پہلے اس کو سلا کر ا آئي ہوں۔
سعديہ پاني کا جگ لے لئے ہوئے کھڑي تھي، سعديہ پاني کا جگ پھينک کر
مجھ سے لپٹ گئي، بھيا ميں نے آپ کي کہاني پڑھي، ميں آپ سے بہت محبت کرتي ہوں، آپ
ميرے لئے دنيا کے انسانيت سے بھرے مردوں کي نشاني ہيں، ميں نے اپنے کندھے کو آنسووں
سے گيلا محسوس کيا،ميں نے سعديہ کو اپني بانہوں ميں زور سےسمٹنا۔
بھائي جان يہ ميري پسلياں ہے ، آپ پھولوں کا عرق نہيں نکال رہے۔
ہم دونوں بہت دير تک اسطرح کھڑے رہے، سورج نکل آيا، اسکي روشني نے لہروں ميں
جھلملاہٹ پيدا کي۔
ہم چادر پر بيٹھ گے، ميں نے گھر کي طرف ديکھا اماں اور ابا جان
سيڑھيوں سے اتر کر ہماري طرف آرہے ہے تھے، ان کے ساتھ ايک حيسن اور خوبصورت لڑکي
تھي۔
وہ سکينہ ہے، سعديہ نے فخر سے کيا۔
جب ميں نے اس کو آپ کي کہاني بھيجي تو وہ آپ سے ملنا چاہتي تھي، وہ يہاں لاس اينجلس
ميں تھي۔
ميں نے اپنا شارٹ ويورييڈ آن کيا، اس پر کوئي علامہ اقبال کي نظم پھولوں کي شہزاددي
پڑھ رہا تھا۔ |