|
ميرو بہت خوش تھا۔ پينٹ کي جيب ميں اڑے ہوئے بٹوے کا پيٹ نيلے ہرے
نوٹوں سے پھولا ہوا تھا۔ آج اسے سيمو کوڈنر پر لے کر جاتا تھا۔بچوں کو فن لينڈ لے
کر جانا تھااور اماں ابا کے ہاں سے بھي فون آيا تھا کہ بيٹا بھول گئے تيرے ماں باپ
زندہ ہيں۔وہ تيز تيز قدم اٹھا رہا تھا۔اچانک اک نامانوس سي آواز نے اس کے قدم روک
ديئے۔ سامنے کافي رش سا نظر آرہا تھا۔ فطرت انساني ہے، انسان ہر بات ہر چيز کے بارے
ميں يونہي بس يونہي تجسس کا شکار رہتا ہے۔ وہ بھي اس ہجوم کي طرف چل پڑا۔
پاگل پاگل ميں پاگل ۔تم پاگل ۔۔يہ دنيا پاگل۔۔اس کے دھول سے آٹے
لمبے سياہ بال ہوا ميں لمبي لمبي جھاڑيوں کي مانند لہرا رہے تھے۔اس کي قلميں
مونچھوں کي حدوں کو چھو رہي تھيں۔اس کا گريبان زمانے کے ہاتھوں چاک ہو چکا تھا۔وہ
اک جوگي تھا۔ اسکے دونوں لمبے بازو فضا ميں پيساکے مينار کي طرح بلند تھے۔ ہاتھوں
ميں پکڑي ہوئي گھنٹياں جن کو وہ انتہائي سرعت سے ادھر ادھر گھما رہا تھا۔ان کي ٹن
تن اور ٹن ٹن آپس ميں گڈ مڈ ہو کر سريلي جھنکار پيدا کر رہي تھيں۔ جيسے کالي رات
میں خوني مندروں پر رقص کرنے والي چڑيلوں کے راگ اور سنگيت ،
اک کالي عينک والے شخص نے اس جوگي کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کے
کوشش کي تو جوگي نے وہ دس کا نوت واپس اس شخص کے منہ پر دے مارا۔ اور بولا پاگل تم
لے يہ دولت پاگل تم دنيا پاگل ہم سب پاگل اور پاگل دنيا والے ۔۔ان الفاظ کے ختم
ہوتے ہي اس کے سوکھے سڑے گلے سے ايسا فلک شگاف قہقہہ نکلا جيسے مڈل اسکول کے تہہ
خانوں ميں کالي کالي چڑيلوں کے باريک قہقہے چھوٹے دل والے بچوں کے دل دہلا ديتے
ہيں۔ يارات کے وقت سنگل پسلي پہرے دار کو چادر کے اندر تک دبک جانے پر مجبور کرديتے
ہيں۔
جب سب لوگ ايک ايک کر کے سرکنے لگے تو جوگي نے اپني تھيلي
اٹھائي ۔تھيلي میں سوکھي روٹيوں کے ٹکڑے تھيلي کو نوکيلا بنا رہے تھے۔ ميرو جوگي کے
پيچھے جا کھڑا ہوا۔ اور اس کے کندھے پر ہاتھ دکھ ديا۔جوگي نے مڑ کر اسے ديکھا تو اس
کے انگارے ايسي آنکھيںميرو کے جسم کو داغتي ہوئي محسوس ہوئيں۔ مجھے تمہاري کہاني
سسني ہے۔ ميرو نے پہلے ہي داؤ پر اپنا پتہ شو کر ديا۔ |