|
|
| |
کراچي سے کراچي تک |
ہم کوئي سرکاري افسر يا کسي
پرائيوٹ کمپني ميں کسي اعلي ملازمت پر فائز نہ تھے کہ ہميں سرکاري
يا ہماري کمپني باہر کے دورے پر بھيجتي، نہ ہمارے شاعرانہ و
اديبانہ قد کاٹھ کا اس دنيا کو ابھي تک اندازہ ہوا تھا، کہ ہميں
کسي محفل ميں شرکت کي دعوت نامہ بھيجا جاتا، تاہم ہماري قسمت
ميں ذرا سي آوارہ گردي لکھ دي گئي تھي، سو ہميں چند دنوں کيلئے کھلي فضا ميں سانس
لينے کا موقع نصيب ہوا يا اس طرح کہئيے کہ آزادي نصيب ہوئي، جن ممالک کي سياحت
مقصود تھي، ان کے ويزے کيسے حاصل کئے اس موضوع پر شکوں شکايتوں سے بھر پور ايک لمبي
بحث کي جاسکتي تھي، انگلينڈ جسے انگلستان، برطانيہ ولايت اور نجانے کيا کيا کہتے
ہيں، اس خدا ترس ملک کے سفارت خانے والے ايسے دجال واقع ہوئے ہيں کہ جب تک
معصوم پاکستانيوں کو مہينوں چکر نہ لگوائيں، ويزہ عنايت نہيں کرتے، وقت اور مشکلات
کے دريا و سمندر پار کرتے ہوئے آخر کار ہم مقررہ وقت پر قائد اعظم انٹرنيشنل ائير
پورٹ پہنچ گئے، معمول کي کاروائي اس مرتبہ کچھ شريفانہ تھي کيونکہ
ابھي 11 ستمبر کا عظيم الشان واقعہ وقع پذير نہ ہوا تھا، اعلان
کردہ گيٹ کے ذريعے ہم اپنے جہاز کي طرف چل پڑے۔
ہر چند کہ ہم ابن بطوط کي طرح ايک عدد گھوڑے چند کتابوں بمع نقشہ
جات اور سفر کے دوسرے قديم سامان سے ليس نہ تھے مگر کچھ پھر بھي
سعوديہ ائير لائن کے ديو ہيکل ہوائي جہاز ميں قدم رکھتے ہوئے ہم نے
خود کو تخيلاتي اقدار کے لحاظ سے ابن بطوط تصور کيا خيالي طور پر
لنگي کسي داڑھي پر ہاتھ پھيرا دستار چڑھائي گھوڑے پر زين کسا اور
سفر آخرت کيلئے تيار ہوگئے معاملہ يہ ہے کہ ہم |
|
 |