Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
<


  اردوادب | آپ کے مضامين | وقار مسعود خان
قنديل
گھر کي فضا ميں ليا تھا۔ ماں اسے جنم ديتے ہي چل بسي اور باپ اجنبي افراد کي گوليوں کا شکار ہو کر راہ عدم کو سدھار گيا۔ اس دن سے آج تک قنديل ماموں کے ہاں يعني زياد کے ساتھ پلي بڑھي تھي۔ جب سے زياد کے رشتے کي بات چل رہي تھي تب سے قنديل کے سپنوں کي مشعل دن بہ دن دھيمي پڑتي جا رہي تھي۔ قدموں ميں سست روي اور خيالو ں ميں ناشائستگي پيد اہو رہي تھي۔ وہ اکيلي کر بھي کيا سکتي تھي، صرف وہ دونوں ہي جانتے تھے کہ دنيا کي آنکھ کے پس پردہ اندر ہي اندر ان کے دلوں ميں محبت کے چراغ روشن ہيں، عشق کي تانيں رقص کرتي ہيں ۔ نہ چاہتے ہوئے بھي اسے زيادہ کي شادي کے بارے ميں کھسر پھسر ميں شريک ہونا پڑتا ۔ ماموں مماني کو نت نئے مشورے دينے پڑتے ، قندو کو بچپن سے ہي سينے ميں درد کي شکايت رہتي تھي۔ اب پتھروں جيسے بھاري بھاري دکھ اس کے دل پر باري باري برس رہے تھے۔ اور وہ زيادہ کيسا لڑکا تھ اکہ زبان پر خاموشي کا قفل باندھے لاپرواہ بند رکي اچھلتا پھرتا تھا کہتا تھا۔

ميري مرضي کے بغير کون کرا سکتا ہے ميري شادي ۔۔اوں ہوں۔۔نا ممکن ۔۔تم ديکھنا کہ ميري بارات تمہارے ہي در پر آئے گي۔ تمہیں دلہنيا بنا کر ڈولي میں بٹھا کر سجا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔

مگر افسوس کہ تم ڈولي ميں نہیں بيٹھ سکتيں۔ يہ سنتے ہي قندو روشن دان کي طرح غصے سے آنکھيں کھول کر پوچھتي کيوں؟ او روہ دانش مندي سے سمجھانے بيٹھ جاتا۔۔ديکھو بھئي ايک ہي گھر کي اوپر والي منزل سے نيچے قدم رنجہ فرمانے کے لئے ڈولي تو نہيں منگوائي جا سکتي ليکن ميں زينوں پہ ہتھلياں اور پلکیں بچھا دوں گا۔ قالين کو گلاب پتيوں سے سجا دوں گا۔ اور قندو بڑي شکل سے اپنے منہ زور دل کو سمجھا پاتي کہ بندي ااس کے ماتھے پر سجے گي۔

زيادکي غير موجودگي ميں جب رشتے کروانے والي ماسياں بڑے زور و شور سے مماني کو کسي لڑکي کے اوصاف گنوا کر انہیں قائل کرنے کي کوشش کرتي تو قندو بڑي معصوميت سے اس لڑکي کي صورت سير میں خامي نکال کر اسے قطار سے باہر کروا ديتي۔

اگلا صفحہ (2) پچھلہ صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 6 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu