Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
<


  اردوادب | آپ کے مضامين | وقار مسعود خان
زندگي
يہ بيگم صاحبہ کا حکم نامہ يا استدعا جو بھي تھا مگر ياسمين پر قہر بن کر ٹوٹا کہ اس کي پھول ايسي بچي بھي اب اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے ان چمکتے دمکتے بھاري صوفوں اور درجنوں برتنوں کي صفائي کيا کرےگي۔اس کا بس چلتا تو وہ پر لگا کر اڑتي اور کرن کو اپني کمرپر سوار کر کے يہاں سے بہت دور کہيں کوہ قاف ميں چھوڑ آتي تاکہ ماں باپ کي طرح اس کي زندگي بھي پائي پائي کا محتاج نہ بن پائے۔ وہ معصوم جو ہر رات کو قبر کي لمبائي جتنے صحن ميں ليٹے ليتے چمکتے دمکتے تاروں کو ديکھا کرتي تھي، تاروں کي قطاروں کو ملا کر گڈے گڑيوں ، کاروں، بندروں اور پھولوں کي شکليں بنايا کرتي تھي،وہ کيا جانتي تھي ايک حد تک اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر ، تھپکي دے کر اور لوري دے کر سلائے گي۔  اس کے بعد چاندني رات کے عکس پر ظلمت کے سائے قبضہ جما ليں گے پھر اسے ايک ايک نوالے کے لئے تک و دو کر کے نہ صرف خود کو زندہ رکھنا ہوگا بلکہ وقتا فوقتا زمانے کے طنز و مزاق پر بھي ہنسنا مسکرانا ہوگا۔۔۔وہ مذاق۔۔ جو خود وقت اور زمانہ اس کے ساتھ کريگا۔

اگلے جمعے کو کرن نہا دھو کر بن سنور کر بنگلے میں آئي۔ وہ ہميشہ بنگلے کے اندر جانے سے ڈرتي تھي، اسے تو بنگلے ميں رہنے والے کل افراد کي تعداد بھي معلوم نہ تھي۔ اس دن اس نے بنگلے کي ہر چيز کو غور سے ديکھا۔ ا۔۔ديکھا اور سوچا۔۔اور پھر سوچنا چھوڑ ديا کيونکہ جس چيز تک انسان کي پہنچ نہيں وہاں تک سوچوں کے زاويے کيسے کھينچے جا سکتے ہيں وہ بھي اس صورت ميں جب انسان زندگي بنانے کے ابتدائي مراحل ميں ہو۔ وقت کچھوے ،خرگوش کي دوڑ کے موافق گزرتا رہا، صفائي ستھرائي کا بيشتر کام اب ماں کي جگہ کرن کو ديا جاتا کيونکہ اس کے جوان ہاتھوں سے محنت و مشقت کا رنگ بخوبي جھلکتا تھا۔

کہتے ہيں کہ ہر آنے والا دن مسرت کا پيامبر ہوتا ہے مگر ايسے ہي ايک نئے دن جب سورج مشرق سے سرا بھار کر چار سو روشني بکھيري، وہاں ياسمين اور کرن کي صبح اندھيري ہو چکي تھي۔ دوسروں کے گلستان کي آبياري کرنے والا اپنے چمن کو تشنہ لب چھوڑ گيا تھا۔کرم دين ان دونوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اگلے جہاں کے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ ان دونوں کي ننھي منھي دنيا پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔ مالکوں کي طرف سے برتاؤميں کسي حد تک نرمي واقع ہوئي۔ اس قدر کمي کہ ثروت بيگم کا لاڈلا بيٹا عبيد جب شفيق نظروں سے کرن کو ديکھتا تو وہ معصوم اندر کر دہل کر رہ جاتي،رواں رواں موسيقي کے آلوں پر کھنچي تاروں کي طرح کانپنے لگتا۔ اس نے جواني کي دہليز پر قدم تو رکھا تھا مگر وہ اس بات سے بے خبر تھي کہ وہ عمر کے ايسے حصے ميں داخل ہو چکي ہے جہاں گھر کي تمام کھڑکياں دروازے اور چھتيں کمينوں کي حفاظت نہيں کر پاتيں۔کرن کا سولہواں جنم دن جس کي تاريخ اس نے کسي کاپي کتاب ميں لکھ رکھي تھي اس مرتبہ چپ چاپ کوارٹر کے خاموش دروازے کو چھو کر گزر گيا۔

گرميوں کي چھٹيوں ميں عبيد کے ماموں اپنے بال بچوں سميت ان کے يہاں سير کرنے آئے تو عبيد کو اپنا ہم عمر اورہم خيال ماموں زاد عادل ميسر آگيا۔ دونوں نے مل کر کراچي کے ہر تفريحي مقام کي سير کي، کلفٹن ،منوڑہ، ہاکس بے گھومے، شوقين مزاج تو سدا سے تھے ،سينماؤں ميں فلم ديکھنا، ساحل پر تتليوں کر چھيڑيا،حسن کي خريد و فروخت کرنا ان کے محبوب مشاغل ميں شامل تھا۔ ان چھٹيوں ميں دونوں نے مل کر ہر تفريح کا خوب لطف اٹھايا۔چند دنوں تک عبيد کا رزلٹ آيا تو وہ آگے پڑھنے سے انکاري ہوگيا اور کاروبار ميں دلچسپي لينے کي خواہش ظاہر کي۔ چار و نا چار والدين کو اکلوتے بيٹے کي ضد کے سامنے ہتھيارڈالنے پرے اور وہ باپ کے ساتھ  دفتر جانے لگا۔ پيسہ ہاتھ ميں آيا تو عياشيوں ميں اضافہ ہوتا چلا گيا۔انہيں دنوں وہ کسي کاروباري سلسلے ميں لاہور گيا تو عادل نے اس کي خوب خاطر تواضع کي، لاہور کا چپہ چپہ گھمايا، اسے بھر پور رفاقت مہيا کي، جس میں بد نام بازاروں زيارت سر فہرست تھي۔ عبيد خوشگوار ياديں لے کر کراچي لوٹ آيا، بلاشبہ اسے لاہور بہت پسند آيا۔
اگلا صفحہ (2) پچھلا صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 7 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu