|
|
| غزل |
نين مرے برسات ہوئے
اشکوں کي سوغات ہوئے
دکھ کا کاجل پھيل گيا
غم کي کالي رات ہوئي
کب ديکھا تھا ياد نہيں
صدياں بيتيں بات ہوئے
بول تمہارے ہونٹوں کے
رس بھرے نغمات ہوئے
چلے تو يہ معلوم ہوا
سچے سب خدشات ہوئے
تيرے قول قرار سدا
نفي کبھي اثبات ہوئے
خوشياں ہم کو راس آتيں
کب ايسے حالات ہوئے
ميرے ٹوٹنے کے اسباب
بڑے بڑے صدمات ہوئے
حزن و ملال سے عاکف جي
کالے يہ صفحات ہوئے |
|
 |