نعرہ لا الہ سے لے تو ليا وطن
اس جذبہ پاکيزہ سے کر نہ سکے پھبناک لا جو چاہئے تھي اسے لا ہي
کر ديا
غيروں کے ہر نظام ميں ليکن رہے مگن
آدھي صدي گزار دي منزل ھنوز دور
ان راستوں پر چلنے کا کيا تھا کيا جتن؟
اب پھر سے چاہئے ہميں محمود غزنوي
آئے کوئي تو دھرتي پہ اک بار بت شکن
ميرے دل و دماغ ميں ہے فکر جاگزيں
حق گوئي ہي کے واسطے ہو بس مرا سخن
اللہ کي عطا ہے يہ سر زمين پاک
مجھ کو جہاں ميں سب سے ہے پيارا مرا وطن
عاکف مرے وطن کا تو دنيا ميں نام ہوگا
ہر پاکباں کے دل ميں اگر ہو يہي لگن |