|
سوچتا ہوں کہ اب لوٹ
کے آئے گي
تو اس سے گن گن کے بدلے لوں گا
پھر خيال آتا ہے کہ
ميں
اس کو کچھ بھي نا کہوں گا
کہيں واپس نہ لوٹ جائے وہ
اس سے لپٹ کر خوب رائون گا
بھول جائے گي وہ بے
وفائي کا نام
میں اسے اتنا پيار دوں گا
جب بھي وہ مجھ سے دور
جائے گي
اس کي ياد میں ہر پل تڑپتا رہوں گا
فلک ہے اگر وہ تو اس
کے
دامن کو ستاروں سے بھر دوں گا
ميري محبت کي دنيا ہے
وہ
اس کے ساتھ جيوں گا اس کے ساتھ ہي مروں گا
|