کانٹے ميرے رقيب ہيں
پھولوں کي مجھے چاہ نہيں
شبنم نہ بھي آئے گلشن ميں
مجھے اس کي پرواہ نہيںخزاں مجھے مل ہي جائے گي
کسي نہ کسي دوراہے پر
فقط بہار کو ہي
ميرے آنگن کي راہ نہيں
کليوں کو ہے گلہ
ہر طرف شور ہے برپا
ہوا کو کچہ شکايت ہے
ميں نے ابھي کچھ کہا نہيں
پتياں برداشت نہ کر سکيں
تيز دھوپ کا وجود ساگر
افسوس چھاؤں کا سايہ
بھي انہوں نے سہا نہيں |