ميرے کرب ميں ہے مسلسل پريشان کوئي
اب تو کھول دے ميري کشتي کا باد بان کوئيمحسوس کر رہا ہوں ميں اک خاموش آہ و
بکاء
رسوائي کے ڈر سے نہيں کھولتا اپني زبان کوئي
مانگي تھي فقط ميں نے پتھروں کي بھيک
کم ظرف نہ دے سکا مجھے کہکشاں کوئي
خبر ديتي ہے نگاہوں کي سرخي
رات بھر رہا ہے تجھ سے گريزاں کوئي
چمکتا نہيں ميري قسمت کا ستارہ ساگر
شايد ميرے مقدر ميں نہيں چراغاں کوئي |