مجھے اچانک نظر وہ آئي
ميں چپ رہاپر
کچھ اس طرح سے
مرے پريشاں سوال ابھرے
تما سوئے خيال ابھرے
تڑپتي جانوں کو جيسے لے کر
کسي مچھيرے کا جال ابھرےسمجھ نہ پايا کہ کيا کروں ميں
قدم بڑھاؤں کہ ٹھير جاؤں
جو چند لمحوں ميں ياد آيا
اسے سناؤں کہ لوٹ جاؤں
رہوں سلامت کہ ٹوٹ جاؤں
عجيب عالم تھا جسم و جاں کا
قدم نہ اٹھتے تھے شل بدن تھا
گماں يقيں تھا
وہ پل قرن تھا
خيال آيا اسے بتاؤں
کہ ميں وہي ہوں
کہ جس پہ تم مہرباں کبھي تھے
خيال آيا اسے جتاؤں
محبتوں کے رفاقتوں کے وہ عہد و پيماں
ہاں ميں نے چاہا اسے پکاروں
قدم بڑھانا ہي چاہتا تھا
مگر اچانک وہ پھول بچہ
جو ريت سے گھر بنا رہا تھا
پکار اٹھا
ميں کب سے يہ گھر بنا رہا ہوں
مگر سمندر کو کيسے روکوں
کہ ميرے گھر يہ گرا رہا ہے
مجھے يہ بے حد ستا رہا ہے
يہ ميرے خوابوں کے سب گھروندوں کو
ڈھارہا ہے، بہارہا ہے
ميں تھک گيا ہوں، تھکي ہو تم بھي
چلو نہ ماں اب چلو يہاں سے
ہمارا گھر ہي ہے سب سے اچھا
ميں سن رہا تھا تمام باتيں
پسينہ ماتھے سے بہہ رہا تھا
تھا روشني ميں پہ گہہ رہا تھا
ميں تھا سلامت کہ ڈھ رہا تھا
عجيب عالم تھا جسم و جاں کا
قدم نہ اٹھتے تھے شل بدن تھا
يقيں گماں تھا
وہ پل قرن تھا
جو آج صحرا ہے کل چمن تھا
اسي تذبذب ميں تھا ابھي ميں
کہ
ميرےماتھے کو ننھے ہاتھوں نے يوں ہلايا
کہ جيسے مجھ کو جگا رہے ہوں
پلٹ کے ديکھا
تو ميري بيٹي سرہانے بيٹھي تھي
ميرا کاندھا ہلا رہي تھي
جگا رہي تھي
ہے کيا حقيقت بتا رہي تھي
21مئي1994ء |