نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بيچ
لفظ رک جاتے ہيں آ کر مري گفتار کے بيچدل کي باتوں ميں نہ آيا رکہ اس بستي ميں
روز دل والے چنے جاتے ہيں ديوار کے بيچ
ايک ہي چہرہ کتابي نظر آتا ہے ہميں
کبھي اشعار کے باہر کبھي اشعار کے بيچ
ايک دل ٹوٹا مگر کتني نقابيں پلٹيں
جيت کے پہلو نکل آئے کئي ہار کے بيچ
کوئي محفل ہو نظر اسکي ہميں پر ٹہري
کبھي اپنوں ميں ستايا کبھي اغيار کے بيچ
ايسے زاہد کي قيادت مياں توبہ توبہ
کبھي ايمان کي باتيں ،کبھي کفار کے بيچ
کبھي تہذيب و تمدن کا يہ مرکز تھا مياں
تم کو بستي جو نظر آتي ہے آثار کے بيچ
جس طرح ٹاٹ کا پيوند ہو مخمل ميں عديل
مغربي چال چلن مشرقي اقدار کے بيچ
18ستمبر1995ء |