وسوسے سے کيوں يہ پس جاں ہيں رسول عربي
آپ جب ميرے نگہباں ہيں رسول عربيہم تو اس بات پہ حيراں ہيں زمين پر اب بھي
کتني زنجيريں ہيں زنداں ہيں رسول عربي
يہ زميں جس پہ رکھا تم نے برابر سب کو
اس پہ قابض شہ و شاہاں ہيں رسول عربي
آپ نے توڑا تھا جن ذہنوں کا اقراء سے سکوت
پھر وہ خاموش ہيں ويراں ہيں رسول عربي
آپ کي ذات نے بخشا ہے دو عالم کو وقار
دو جہاں آپ پہ قربان ہيں رسول عربي
کاش وہ صبح بھي آئے کہ قلم لکھے عديل
ہم تري فکر کے شاياں ہيں رسول عربي |