|
|
| کل مري |
کل مري سوچ ميں يہ آج کا سورج تو نہ تھا
آج نکلا ہے يہ سورج تو ميں اس سوچ ميں ہوں
يہ نيا دن
يہ نئي صبح
يہ مري آنکھ کا پھر سے کھلنا
کيا کہيں اس کا بدل اور کوئي چيز بھي ہے؟
روز سورج يہ نکلتا ہے تو دنيا والے
گھر سے انجان تعاقب ميں نکل جاتے ہيں
ايک ہي فکر ميں
صديوں سے جو انسانوں کو
صرف نفرت کا سبق ديتے ہيں
بڑي مخلوق يہاں اور بڑا ہونے کو
چھوٹي مخلوق کو زندہ ہي نگل جاتي
سوندھي مٹي کي، گرم روٹي کي خوشبو ہے کہاں؟
کار خانوں سے ، تنورں سے ، گھروں سے اب تو
زندہ انسانوں کے جلنے کي سي بو آتي ہے
نئي تہذيب اگار امن کي شيدائي ہے
کيون يہ تاريخ بھلا اپنے کو دہراتي ہے؟
ننھي آنکھيں کہ جہاں خواب تھے روشن صاحب
آج ان آنکھوں ميں
جوف سا ديکھا، حقارت ديکھي
پيار کرنے کو جو بے چين تھيں باہيں اک روز
جان لينے کي انہيں ہاتھوں ميں طاقت ديکھي
کيا ضرورت کہ برے کام ہوں تاريکي ميں
کيا ضرورت کہ برے نام ہوں تاريکي ميں
اب تو بس لوگ اٹھائے ہوئے اپنے جھنڈے
اور چہروں پر سجائے ہوئے انسان کا روپ
اپنے بوسيدہ خيالوں کو نئے نام ديئے
رسہتي دنيا تلک
جينے کے سامان لئے
صرف اور صرف
اپنے رواجوں کو بتا کر قانون
اپني نسلوں کو سمجھ کر برتر
رسموں کے لئے
روايت کے لئے
شہرت کے لئے
دين و مذہب کو بنائے ہوئے ڈھال
قتل کر ديتے ہيں بچوں کو يہاں
آج پھر آنکھ کھلي ہے تو میں اس سوچ ميں ہوں
اس نئے دن کا بدل اور کوئي چيز نہيں؟
ياد اللہ کروں سجدہ کروں، شکر کروں
آنکھوں ميں روشني
ميں صبح يقيں کي رکھوں
يا انہيں بند کروں
پھر سے نہ کھلنے کے لئے
کيا يہي راستہ ہے
پھر سے نہ جھکنے کے لئے
بند کر لوں
ميں ان آنکھوں کو ہميشہ کے لئے
تاکہ نفرت کے خرابے ميں
يہ کل کا سورج
پھر مري سوچ کو آباد نہيں کر پائے
گزري صديوں کي طرح
گزرے زمانوں کي طرح
پھر يہ سورج مجھے برپا نہيں کر پائے
آج پھر آنکھ کھلي ہے تو ميں اس سوچ ميں ہوں
کاش يہ آنکھ نہ کھلتي نہ سويرا ہوتا
بس
اندھيرا ہي ، اندھيرا ہي، اندھيرا ہوتا |
|
 |