رہ خزاں ميں تلاش بہار کرتے رہے
وہ بے وفا تھا مگر ہم تو پيار کرتے رہےہے کيا تماشہ ادھر رنجشيں ہي بڑھتي رہيں
تعلقات ہميں استوار کرتے رہے
گزر گئي جو گھڑي، لوٹ کر نہ آئي کبھي
تلاش شام و سحر بار بار کرتے رہے
تمہاري چاہ ميں جتنے بھي ہم کو زخم ملے
محبتوں ميں ہم ان کا شمار کرتے رہے
تري انا پہ ہميں اختيار ہي کب تھا
تمام عمر ترا انتظار کرتے رہے
عديل لوگ گھروں کو سجائے بيٹھے ہيں
تنزئين شہر فقط برگ و بار کرتے رہے |