نہاں فنا میں بقا ہے ذرا سنبھل کے چلو
يہ خاک خاک شفا ہے ذرا سنبھل کے چلوہر ايک ذہن ميں انديشہ ہائے دوردراز
ہر ايک لب پہ صدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
ہيں اس کي خاک کے پردے میں آسمان کئي
زمين کرب و بلا ہے ذرا سنبھل کے چلو
جہاں سے تم کو پيام و سلام آتے ہيں
وہ شہر، شہر جفا ہے ذرا سنبھل کے چلو
يہ صحن ارض حرم ہے بہ احتياط قدم
بہت قريب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
ابھي کسي کي جھلک ہے ہر ايک چہرے ميں
ابھي يہ زخم نيا ہے زرا سنبھل کے چلو
جدائياں يہ کہيں دائمي نہ ہو جائيں
مزاج سب کا جدا ہے زرا سنبھل کے چلو
سفر بھي دھوپ کا ہے اور عديل تلوؤں کا
ہر ايک زخم ہرا ہے زرا سنبھل کے چلو
1مئي 1997ء |