وہ عشق کا زمانہ تھا
جب دل ميرا ديوانہ تھا
ميں راہ عشق پر چل پڑا
خوشيوں سے ميں اچھل پڑاايک سائل نے مجھے روک کر
پھر مسکرا کے ٹوک کر
کہا کہ ميري جان سن
اے معصوم نادان سن
عشق آگ ہے نہ اس ميں جل
بہتر ہے تو ابھي سنبھل
بات ہنس کر ميں نے اڑا ديا
اور آگے قدم بڑھا ديا
ميرے راستے ميں پھول تھے
خوشبو بنے سب دھول تھے
چاروں طرف تھي روشني
کہيں چاند تھا کہيں چاندني
يہ زندگي حسين تھي
جو عشق کي مکين تھي
ميں خوش تھا کہ ميں آگيا
منزل کو اپنے پا گيا
مجھے اس پر اعتبار تھا
کہ اسے ميرا انتظار تھا
اس وقت مگر ميں رو ديا
جب ايسا کچھ ہوگيا
ميرا ہمسفر ميرا ہمنشيں
بن کے ايک اجنبي
ميرے سامنے سے گزر گيا
ميرا خواب وہيں بکھر گيا
دل ٹوٹ گيا زخم ابھر گيا
ميں سنبھل نہ پايا ميں گر گيا
ميري خواہشيں مچل گئيں
ميرے پاؤں سے زمين نکل گئي
غم بے وفا کي اوج ميں
ميں گم تھا کسي سوچ ميں
کہ ميں نے ديکھا چونک کر
اسي سائل نے کاندھا ٹھونک کر
کہا کہ ميري جان سن
اے معصوم نادان سن
عشق آگ ہے نہ اس ميں جل
بہتر ہے تو اب بھي سنبھل
وہ عشق کا زمانہ تھا
جب دل ميرا ديوانہ تھا |