|
انداز محبت کے نبھانے نہيں آئے
شايد کے مجھے دوست بنانے نہيں آئے
جاتا ہے نشانے کي طرف تير ہميشہ
خود تير کي جانب يہ نشانے نہيں آئے
ميںجس سے بچھڑ کر ہوں بڑي دير سے تنہا
اس شخص سے ملنے کے زمانے نہيں آئے
وہ آگ جو مدت سے مرے دل ميں لگي ہے
اس آگ کو طادل بھي بجھانے نہيں آئے
امجد کئي برسوں سے ميں يہ سوچ رہا ہوں
کيوں پاس ميرے دوست پرانے نہیں آئے |