اپني اپني ذات ميں محدود کر ڈالا گيا
آدمي کو آدمي سے دور کر ڈالا گياہس نے پھيلائي يہاں فکر و نظر
کي روشني
زہر پينے پر اسے مجبور کرڈالا گيا
سچ کہا جس نے اسے سولي پہ چڑا ہوايا گيا
حاشيہ برادر کو تميور کر ڈالا گيا
کھيل ايسا بھي سيحائوں نے کھيلا بارہا
زخم دے کر زخم کونا سور کر ڈالا گيا
يوں بھي امجد روشني کے خواب دکھلائے گئے
دل غموں کي گرد سے مصمور کر ڈالا گيا |