|
چاندني شہر کے ہر گھر ميں اتر جاتي ہے
ميرے آنگن سے يہ کترا کے گزر جاتي ہے
اس کے دامن سے لپٹ کر جو ہوا آتي ہے
ميرے کمرے ميں مہک بن کے بکھر جاتي ہے
کتنے اشجارگرا ديتي ہے يہ تز ہوا
بستياں کتني ہي مسمار يہ کر جاتي ہے
مانتا ہوں کہ يہ خوشياں بھي ضروري ہيں مگر
غم کے صحرائوں میں بھي عمر گزر جاتي ہے
مرے احساس کي شمع نہيں بجھنے پائي
اس کي تنوير ہر اک سمت بکھر جاتي ہے
کيسے برداشت اذيت کروں امجد اس کي
بوجھ اتنا ہے اٹھانے سے کمر جاتي ہے
|