دھوپ کي شدت کا ہم کو اس قدراحساس تھا
ايک سورج ڈھل چکا تھا ايک سورج پاس تھاميں نے خود اس بار پہچانا
ہے آپنے آپ کو
کوئي آئينہ بھي آخر کب مرا عکاس تھا
دکھ تو يہ ہے مجھ کو پتھر کا بنانے کے لئے
ايک دن نوچا گيا جتنا بدن پہ ماس تھا
ہم نے ديکھا ہے يہ دستار گر جانے کے بعد
ہوگيا ہے عام اتنا ، جتنا کوئي خاص تھا
ہوگئي ہے اس لئے امجد بري حالت مري
دشمن جان تھا زمانہ اور میں حساس تھا |