فضائو ں ميں بکھرنا چاہتي ہے
وہ خوشبو ہے مہکنا چاہتي ہےوہ اپني پھول جيسي انگليوں سے
کوئي تتلي پکڑنا چاہتي ہے
لہو کي بوند سےقرطاس پر وہ
رقم تاريخ کرنا چاہتي ہے
مسافت کے دکھو ں سے آشنا ہے
سفر ميں ساتھ چلنا چاہتي ہے
بناوٹ اس کي فطرت ميں ہے امجد
نئے سانچے ميں ڈھلنا چاہتي ہے |