|
ہمارے خواب حقيقت ميں ڈھال ديتي ہے
وفا زوال نہيں بس کمال ديتي ہے
يہ بات سچ ہے محبت اگر ہو سچي تو
حصار ذات سے باہر نکال ديتي ہے
کسي مثال کے قابل کبھي نہيں ہوتي
وہ بات جس کي يہ دنيا مثال ديتي ہے
تري نظر کي اداسي تجھے نہيں معلوم
مرے وجود سے جاں کو نکال ديتي ہے
چھپائے رکھتي ہے امجد بڑي بڑي باتيں
ذرا سي بات کو دنيا اچھال ديتي ہے
|