ہاتھ سے کيسے سمندر کو کھنگا لا جائے
اس تماشے کے لئے چاند نکالا جائےجس کو ديکھو وہي مسمار ہوا جاتا
ہے
اب بھلا شہر ميں کسي کسي کو سنبھالا جائے
تيرے ہاتھوں کو ہنر آتو گيا ہے ليکن
اب کسي جسم کو پتھر ميں نہ دھالا جائے
کب تلک روشني کو تسريں گي آنکھيں ميري
تيرگي ميں کوئي سورج تو نکالا جائے
موقع ملتا ہے تو ڈس ليتے ہيں امجد جاويد
آستينوں ميں کوئي سانپ نہ پالا جائے |