ہم نہ ہوں گے ،کبھي مگر ہوگي
اس سياہ رات کي سحر ہوگيوہ نہ آئے گا دم نکلنے تک
آنکھ ميري بھي راہ پر ہوگي
ميري بستي اجاڑنے والے
تيري بستي بھي خوں ميں تر ہوگي
کتنے ٹکڑوں ميں بٹ گيا ہوں ميں
بے خبر تجھ کو کب خبر ہوگي
ھار کر جيت جائوں گا امجد
جيت ميري تو ھار کر ہوگي |