جب بھي کسي غم کے دريا کو پار کيا
ہم نے اپنے ہاتھوں کو پتوار کياسورج کي حدت سے ڈرنے والے سن
ہم نے اپنے سائے کو ديور کيا
جب سے مري آنکھوں کو پڑھنا آيا
کب تم نے اپنا چہرہ اخبار کيا
ہم کو اپني جان سے بھي جو پيارا تھا
اس نے موقع ملنے پر ہي وار کيا
نفرت ہي کچھ اتني تھي امجد جاويد
اپنے ہاتھوں اپنا گھر مسمار کيا |