|
کشتياں نہيں باقي باد بان باقي ہے
آنکھ کے سمندر ميں اک چٹان باقي ہے
مرحلے محبت کے مجھ سے طے نہيں ہوئے
بعد امتحان کے بھي امتحان باقي ہے
يہ زمين مجھ کو تو راس ہي نہيں آئي
اب خلا نوري کو آسمان باقي ہے
سوچنے پہ پابندي کس طرح لگائو گے
بول تو نہيں سکتے پر زبان باقي ہے
ميرے دل کا دروازہ کوئي کھٹکھٹائے گا
جانے کيوں ميرے دل ميں يہ گمان باقي ہے
جو سفر مقدر تھا، اس سفر پہ نکلا ہوں
کس طرح کہوں امجد اب مکان باقي ہے |