خيالوں ميں تجھے لا کر کئي منظر بناؤں گا
تو تتلي ہے تو رنگوں سے ميں تيرے پر بناؤں گامرا تو کج کلاہوں
سے بغاوت کا ارادہ ہے
تري دستار سے اونچا ميں اپنا سر بناؤں گا
اگرميں اس زمين کے واسطے بارش کا قطرہ ہوں
تو اک دن بادلوں ميں جا کے اپنا گھر بناؤ ں گا
مرا دشمن لڑائي ہار کے محصور بيٹھا ہے
فيصل شہر ميں تيروں کے اب کے در بناؤں گا
ميں اپنے آسماں کا جاگنے والا ستارہ ہوں
مجھے کب نيند آئے گي ميں کب بستر بناؤں گا
يہ خوشبو جب بھي ميري دسترس ميں آئے گي امجد
چمن کے پھول چن چن کر ترا پيکر بناؤں گا |