|
خوف بے نام سا اس دل ميں بسا رہتا ہے
شہر کا شہر ہي آسيب زدہ ہے
جانے کس حال ميں زندہ ہو بچھڑ کر اس سے
جس کا چہرہ ميري آنکھوں ميں سدا رہتا ہے
دھوپ حالات کي احساس کو جھلساتي ہے
اب گھني چھائوں ميں بھي جسم مرا جلتا ہے
يہ سفر راس ہے شايد کہ مجھے راس نہيں
اس سافت ميں کہاں اس کا پتہ چلتا ہے
ميري چاہت کي نفي کرتا ہے امجد جاويد
دوست بن کر وہ ميرے زخم ہرے کرتا ہے |