اتني دھوپ تھي سورج بھي سايہ اوڑھ کے نکلا تھا
شہر بھرا تھا لوگوں سے ليکن ہر اک تنہا تھا
کون تھا کيا، معلوم نہيں ہر چہرے پہ چہرہ تھا
امجد منزل کيا ملتي ہر رستہ چورستہ تھا