مرے خلاف مرے دوست ہيں زمانہ ہے
وہ اس لئے کہ مرا پير ہن پرانا ہےہوا ميں کھينچي ہوئي ہے کسي نے
ايسے کماں
خبر نہيں ہے کہ اس بار کيا نشانہ ہے
ہميں خبر ہي نہيں تھي علم اٹھاتے ہوئے
يہ کر بلا ہے يہاں ہم کو سر کٹا نا ہے
فضا ميں اڑتے ہوئے جائيں گے کہاں آخر
تھکے پرندوں کا بس پيڑ ہي ٹھکانہ ہے
زميں پر ہيں کسي گھاس کي طرح ہم لوگ
ہوا بھي اپنے ليے اب تو تازيانہ ہے |