|
مري آنکھوں کا منظر کھوگيا ہے
زمانہ جسيے سارا سوگيا ہے
بہايا جارہا ہے مسجدوں ميں
ہمارا خون ارزاں ہوگيا ہے
دکھوں کا ايک دريا بہہ رہا تھا
سمندر ميں کہيں جو کھو گيا ہے
جو چاہت سے کبھي گل بھيجتا تھا
مري آنکھوں ميں کانٹے بوگيا
اسے اب ڈھونڈھے ہو کس لئيے تم
مسافر تھا سفر ميں کھو گيا ہےميں تنہا ہوں مرا کوئي نہيں
يقين مجھ کو بھي امجد ہوگيا ہے |