رواني کا طريقہ ڈھونڈھتا ہے
وہ اک قطرہ جو دريا ڈھونڈھتا ہےدرختوں ميں بغاوت ہوگئي ہے
کہ اب سائے کو سايہ ڈھونڈھتا ہے
کوئي تو ڈھونڈھتا ہے راستوں کو
مگر مجھ کو تو رستہ ڈھونڈھتا ہے
زميں نے آسمان سے کي شکايات
ستارے کو ستارہ ڈھونڈھتا ہے
چلو امجد نئے راستے تلاشيں
جنہيں سارا زمانہ نہ ڈھونڈھتا ہے
|