|
تيرگي کا بول بالا ہوگيا
کام يہ کيسا نرالا ہوگيا
ميں حوالہ تھا کبھي اس کيلئے
آج وہ ميرا حوالہ ہوگيا
ديکھتا ہوں ياس کے پرچھائياں
سوچتا ہوں شہر کيسا ہوگيا
آخرش دھرتي پہ آکے گر پڑا
جو مخالف اس ہوا کا ہوگيا
تير آيا کس طرف سے کيا کہوں
کس طرح امجد نشانہ ہوگيا |