تيرا گمان حقيقت ميں ڈھالنے کے لئے
ميں خود کو ڈھونڈھتا رہتا ہوں مارنے کے لئےميں جيتنے کے ارادے سے
کھيلتا ہي نہيں
ميں کھيلتا ہوں، ہر اک کھيل ہارنے کے لئے
ہر اک زخم کو ہنس کر اٹھا رہا ہوں ميں
ہر ايک درد کو سينے ميں پالنے کے لئے
ہر ايک شخص ہي خنجر اٹھائے پھرتا ہے
مرے وجود سے روح کو نکالنے کے لئے
اتار ڈالے ہيں غربت نے پيرھن امجد
بدن پہ کچھ بھي نہيں اب اتارنے کے لئے
|