تم کو بتائوں کيسے خيالات ريت کے
مجھ پر تو کھل سکے نہ کمالات ريت کےدريا بہا کے لايا، کہاں لے
گيا اسے
کيوں پوچھتے ہو، مٹي سے حالات ريت کے
مٹي کے پاس ان کا کوئي بھي نہيں جواب
ہيں اتنے لاجواب، سوالات ريت کے
شکوہ نہيں ہے دھوپ سے پاني سے کيا گلا
ساحل بھي جانتا نہيں،حالات ريت کے
مٹي کا قرض جس سے ادا ہو نہيں سکا !
امجد وہ لکھ رہا ہے مقالات ريت کے |