يہ ميں کيسا مسافر ہو گيا ہوں
رکا تو راستے ميں کھو گيا ہوںکچھ ايسے آنکھ خالي ہوگئي ہے
کہ جيسے سارے آنسو رو گيا ہوں
يہ کيسے خواب کا دھڑکا ہے دل ميں
کھلي آنکھوں سے اکثر سو گيا ہوں
تو کوئي پھول ہے کہ جس کو چھو کر
سراپا خوشبو خوشبو ہوگيا ہوں
تجھے تبديل کرتے کرتے امجد
ميں خود بھي تيرے جيسا ہو گيا ہوں |