يہ رت يہ چاندني يہ فضا سوگوار ہے
صندل کے جنگلوں کے ہوا سوگوار ہےگزرا نہيں ہے کوئي پرندہ ادھر
سے آج
پيڑوں کے ساتھ ساتھ صبا سوگوار ہے
شدت کي دھوپ کھاگئي پھولوں کے شوخ رنگ
خوشبو بہت اداس ہوا سوگوار ہے
نفرت نے جب سے شہر ميں ڈيرے لگائے ہيں
چاہت کي آنکھ نم ہے، وفا سوگوار ہے
امجد وہ مجھ سے دور ہے اس کو خبر نہيں
فرقت نے اس کي مجھ کو کيا سوگوار ہے
|