ضروري ہے يہ کرنا چاہتا ہوں
کھڑا پائوں پہ ہونا چاہتا ہوںمري حالت پہ مجھ کو چھوڑ دو تم
ميں خود گر کے سنبھلنا چاہتا ہوں
کوئي کردار باقي ہي نہيں ہے
فسانہ ختم کرنا چاہتا ہوں
مري آنکھوں سے خون بہنے لگا ہے
سوئے مقتل ميں چلنا چاہتا ہوں
اندھيرے چار سو پھيلے ہوئے ہيں
چراغ شب ہوں جلنا چاہتا ہوں
نہيں کہنے کو امجد کچھ بھي باقي
مگر اک بات کہنا چاہتا ہوں |