زندگي تو نے اگر برف بنا رکھي ہے
ميں نے بھي جسم ميں اک آگ لگا رکھي ہےاے خدا تو بھي کسي روز
ميرے دل ميں اتر
ميں نے مسجد ميں تيري اس دل ميں بنا رکھي ہے
دل يہ چاہتا ہے تيرے نام سے منسوب کروں
ميں نے کاغذ پہ جو تصوير بنا رکھي ہے
اب تو اک بوجھ سا لگتا ہے مرے سر پہ مجھے
تو نے جو دھوپ ميں يہ چھائوں بنا رکھي ہے
يہ جو بدنام ہوئے جاتے ہيں ہم تم امجد
يہ خبر شہر ميں کس کس نےاڑا رکھي ہے |