لکھتا ہوں غزل اک نئي دل کي کتاب ميں
ديکھي تھي صورت اک حسين رات خواب ميں
بھولي سي اسکي صورت آنکھوں ميں دلکشي تھي
کھويا ہوں ياروں ميں تو اس کے شباب ميں
پر کيف سا تبسم وہ بھيگي ہنسي کي خوشبو
الھڑ سي اک کلي وہ ڈھلتي گلاب ميں
کہتے ہيں عشق جس کو ہونے لگا ہے مجھ کو
ايسي کشکش تھي ياروں اس کے حجاب ميں |