|
|
| نظم |
ايسا کيسے ہو سکتا ہے
ايسا کيسے ہو سکتا ہے
نظر کرم ہوگي اسکي طوطا چشم
ہو۔۔۔ايسا کيسے ہو سکتا ہے
لفظ تھے جيسے اسکے ريشم کي ڈوري
توڑ دي ڈوري ايسا کيسے ہو سکتا ہے
پھول اور پتے رم جھم کرتے چاند ستارے
ڈوب گئے سب ايسا کيسے ہو سکتا ہے
کتابي چہرہ ہنستي آنکھيں نيک چلن
بھول گيا وہ سب ايسا کيسے ہو سکتا ہے
ہوگا وہ پتھر کا صنم
توڑ دے گا جو اپني قسم
پرکھا جس نے مفاد کي چوٹي پر
سمجھے گا وہ کيا محبت کي کسوٹي پر
قطرہ قطرہ تنکا تنکا رفتہ رفتہ
سمٹ جائے گا تو ايسا بھي تو ہو سکتا ہے
رحمن و رحيم، غفور و رحيم، کريم و فہيم
کر دے نظر کرم ايسا بھي ہو سکتا ہے |
|
 |