|
|
| غزل |
بدلتي ہے زندگي وقت بدلتا نہیں
يہ اور بات ہے وہ شخص ہم سے ملتا نہيں
محفل ميں لگ گئي آنکھ اگر غلانہ کرنا
کيا پتہ موت ہي اڑا لے جائے ہميں
ہم سے کوئي التجا مت کرنا
اس کي شاعري ميں اک ہي غلا تھا
شايد اس کو بھي مجھ سا سنگدل ملا تھا
ميرے خالي ہاتھ ميں اپنا ہاتھ ديا تو ہوتا
منزل بن کر منزل تک ساتھ ديا ہوتا
مجھ کو کھو کر چپ کيوں بيٹے ہو راہوں ميں
اتنا پيار کيا تھا تو رب سے مانگ ليا ہوتا |
|
 |